کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مسلمان عورت کا کافر عورتوں کے بجائے صرف مسلمان عورتوں کے سامنے اپنی زینت ظاہر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13542
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ بْنِ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيُّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ الْكِنْدِيِّ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ وَمَعَهُنَّ نِسَاءُ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَامْنَعْ ذَلِكَ، وَحُلْ دُونَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد!“ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مسلمان عورتیں حمام میں نہاتی ہیں اور ان کے ساتھ اہل کتاب کی عورتیں بھی ہوتی ہیں، ان کو اس سے منع کرو اور دوسری (مسلمان عورتیں) جائز قرار دو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13542
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ مَعَ نِسَاءِ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّهُ مِنْ قِبَلِكَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عَوْرَتِهَا إِلَّا أَهْلُ مِلَّتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا: حمد و ثنا کے بعد! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مسلمان عورتیں مشرک لوگوں کی بیویوں کے ساتھ حمامات میں نہاتی ہیں۔ ان کو اس سے منع کرو؛ کیونکہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے جائز نہیں کہ وہ اس کی شرم گاہ دیکھے علاوہ اس عورت کے جو اس دین (ملت) سے ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13543
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13544
قَالَ: وَنا سَعِيدٌ، نا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " لَا تَضَعُ الْمُسْلِمَةُ خِمَارَهَا عِنْدَ مُشْرِكَةٍ وَلَا تُقَبِّلُهَا؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى، يَقُولُ: {أَوْ نِسَائِهِنَّ} [النور: ٣١] فَلَيْسَ مِنْ نِسَائِهِنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مسلمان عورت اپنی چادر کو مشرکہ عورت کے پاس نہ رکھے اور نہ اسے بوسہ دے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَوْ نِسَائِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] اور یہ (کافر عورتیں) ان کی عورتیں نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13544
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»