حدیث نمبر: 13535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ⦗١٥١⦘ الْهَاشِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " كُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَ: كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَبْعَثُ إِلَى بُضَاعَةَ، فَتَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ السِّلْقِ، فَتَطْرَحُهُ فِي قِدْرٍ وَتُكَرْكِرُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ، فَكُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا انْصَرَفْنَا إِلَيْهَا، فَنُسَلِّمُ عَلَيْهَا، فَتُقَدِّمُهُ إِلَيْنَا، وَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، وَمَا كُنَّا نَقِيلُ، وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ. وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا كَانَا يَزُورَانِ أُمَّ أَيْمَنَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ حَاضِنَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن بڑے خوش ہوتے تھے۔ میں نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا کہ ہماری ایک بوڑھی عورت تھی جو بضاعہ (ایک جگہ کا نام) جایا کرتی تھی۔ وہاں سے چقندر لاتی تھی اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھی اور جَو کے کچھ دانے پیس کر اس میں ڈالتی تھی، نماز پڑھ کر ہم اس کی طرف جاتے اور سلام کرتے تو وہ پکی ہوئی چیز ہمیں دیتی تھی اور ہم جمعہ کو اس وجہ سے بڑے خوش ہوتے تھے کہ نہ ہم جمعہ سے پہلے سوتے تھے اور نہ ہی کھانا کھاتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13535
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 6248۔ مسلم 869»