السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في القواعد من النساء باب: بوڑھی عورتوں کے احکام کے متعلق جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَمُحَمَّدٌ النَّضْرُ الْجَارُودِيُّ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ زَائِرًا، وَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ شَرَابًا فَإِمَّا كَانَ صَائِمًا وَإِمَّا كَانَ لَا يُرِيدُهُ فَرَدَّهُ، فَأَقْبَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصَاخِبُهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ قَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَبْكِي أَلَّا أَكُونَ أَعْلَمُ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لیے گئے اور میں بھی ساتھ تھا، تو انہوں نے کوئی پینے کی چیز آپ ﷺ کے قریب کی تو آپ ﷺ نے اس کو لوٹا دیا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ڈانٹا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے چلیے،“ جب وہ ان کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں، تو ان دونوں نے کہا: ”آپ کیوں روتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے پاس جو ہے وہ اس کے رسول ﷺ کے لیے بہتر ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں اس لیے نہیں روتی کہ میں یہ بات نہیں جانتی، لیکن میں اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی آنا بند ہو گئی ہے۔“ ان کے یہ کہنے کے بعد سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی رونے لگے۔