حدیث نمبر: 13529
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي حِصْنِ بَنِي حَارِثَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَكَانَتْ أُمُّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَعَهَا فِي الْحِصْنِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ غزوہ احزاب والے دن بنو حارثہ کے قلعہ میں تھیں اور ام سعد بن معاذ ان کے ساتھ تھیں، یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
ابن اسحاق سے بنو قریظہ کے قصے میں ابولبابہ کی توبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو خوش خبری دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں (دے دو)“ کہتی ہیں کہ میں دروازے پر کھڑی ہوئی اور یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا: ابولبابہ! خوش ہو جا، اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کر لی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13529
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»