السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: مساواة المرأة الرجل في حكم الحجاب والنظر إلى الأجانب باب: پردے کے حکم اور اجنبیوں کو دیکھنے میں عورت کا مرد کے برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13528
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِقُدُومِهِ، فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ، وَمَا رَوَتْهُ عَائِشَةُ وَاحِدَةً، فَفِيهَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ غَيْرَ بَالِغَةٍ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، فَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَيُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ ".حافظ ثناء اللہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے تو حبشی آپ ﷺ کے آنے کی خوشی میں اپنے نیزوں کے ساتھ کھیلے۔ اگر یہ قصہ اور جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے ایک ہی ہیں تو اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت غیر بالغہ تھیں، کیونکہ جب آپ ﷺ مدینہ آئے تو ان کو گھر لے کر گئے اور وہ نو سال کی تھیں اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بات پردے کی آیت سے پہلے کی ہو۔