کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: پردے کے حکم اور اجنبیوں کو دیکھنے میں عورت کا مرد کے برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13524
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ} [النور: 31] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ﴾ ”اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔“ [سورة النور: 31] (الآیة)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13524
حدیث نمبر: 13524
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَمَيْمُونَةُ جَالِسَتَانِ، فَجَلَسَ، فَاسْتَأْذَنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى، فَقَالَ: " ⦗١٤٨⦘ احْتَجِبَا مِنْهُ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَيْسَ بِأَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا؟ قَالَ: " فَأَنْتُمَا لَا تُبْصِرَانِهِ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، میں اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا وہاں بیٹھی تھیں، سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی جو کہ نابینا تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کر لو“، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ نابینا نہیں ہیں؟ وہ ہمیں دیکھ بھی نہیں سکتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی انہیں نہیں دیکھ رہیں؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13524
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13525
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " احْتَجِبَا "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَيْسَ أَعْمَى، لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13525
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 13526
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِالْحِرَابِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِأَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَيْنَيْهِ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللهْوِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے نبی ﷺ کو دیکھا، وہ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور حبشی لوگ نیزوں کے ساتھ مسجد میں کھیلتے تھے اور آپ ﷺ مجھے اپنی چادر میں چھپالیتے تاکہ میں بھی ان کے کھیل کو دیکھ لوں، میں آپ کے کانوں اور گردن کے درمیان سے دیکھتی تھی، پھر آپ ﷺ میری وجہ سے کھڑے ہوتے اور میں آپ سے پہلے وہاں سے پھر جاتی، پس تم اندازہ لگاؤ چھوٹی عمر میں بچی کھیلنے کے لیے کس طرح حریص ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13526
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5236۔ مسلم 892»
حدیث نمبر: 13527
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا، وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى، تُغَنِّيَانِ، وَتُدَفِّفَانِ، وَتَضْرِبَانِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُنَّ ⦗١٤٩⦘ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ، وَتِلْكَ أَيَّامُ مِنًى " وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِثَوْبِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ بِزِيَادَةِ لَفْظٍ فِي آخِرِهِ: فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ، وَنُقْصَانٌ آخَرُ فَفِي قَوْلِهِ فِي هَذِهِ الزِّيَادَةِ وَأَنَا جَارِيَةٌ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ صَغِيرَةً لَمْ تَبْلُغْ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور میرے پاس بچیاں منیٰ والے دن گانا گا رہی تھیں اور دف بھی بجا رہی تھیں اور نبی ﷺ کپڑے میں لپٹے بیٹھے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو منع کیا تو آپ ﷺ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”اے ابوبکر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ خوشی کے دن ہیں۔“ اور منیٰ کے دن کی بات ہے کہ نبی ﷺ مدینہ میں تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا نبی ﷺ مجھے اپنے کپڑے میں چھپاتے تھے اور میں حبشی لوگوں کی طرف دیکھتی جو مسجد میں کھیل رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت بچی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13527
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 892»
حدیث نمبر: 13528
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِقُدُومِهِ، فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْقِصَّةُ، وَمَا رَوَتْهُ عَائِشَةُ وَاحِدَةً، فَفِيهَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ غَيْرَ بَالِغَةٍ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، فَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى بِهَا حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَهِيَ ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ وَيُحْتَمَلُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ ".
حافظ ثناء اللہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے تو حبشی نیزوں کے ساتھ کھیلتے تھے، آپ ﷺ کے آنے کی خوشی کی وجہ سے یہ قصہ تھا جس کو صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں، اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت غیر بالغہ تھیں اور جب آپ ﷺ ان کو گھر لے کر گئے تو وہ نو سال کی تھیں اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ بات پردے کی آیت سے پہلے کی ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13528
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 13529
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ فِي حِصْنِ بَنِي حَارِثَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَكَانَتْ أُمُّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَعَهَا فِي الْحِصْنِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ غزوہ احزاب والے دن بنو حارثہ کے قلعہ میں تھیں اور ام سعد بن معاذ ان کے ساتھ تھیں، یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
ابن اسحاق سے بنو قریظہ کے قصے میں ابولبابہ کی توبہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو خوش خبری دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں (دے دو)“ کہتی ہیں کہ میں دروازے پر کھڑی ہوئی اور یہ آیتِ حجاب نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، میں نے کہا: ابولبابہ! خوش ہو جا، اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کر لی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13529
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»