السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تحريم النظر إلى الأجنبيات من غير سبب مبيح باب: کسی مباح سبب کے بغیر اجنبی عورتوں کی طرف دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗١٤٤⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، فَاسْتَقْبَلَتْهُ جَارِيَةٌ شَابَّةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ، وَقَدْ أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ، فَيَجْزِي أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ: " حُجِّي عَنْ أَبِيكِ "، وَلَوَى عُنُقَ الْفَضْلِ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوَيْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّكِ قَالَ: " رَأَيْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنِ الشَّيْطَانَ عَلَيْهِمَا "، وَقَدْ رَوَيْنَاهُ فِي كِتَابِ الْحَجِّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے پیچھے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور آپ ﷺ نے جمرہ کے پاس رمی کی۔ ایک نوجوان لڑکی آئی جو خثعم قبیلہ کی تھی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میرا باپ بوڑھا آدمی ہے، وہ مخبوط الحواس ہے اور حج کا فریضہ اس کے ذمے ہے۔ اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو کیا کفایت کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی طرف سے حج کر“ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کی گردن کو موڑ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے اپنے بھتیجے کی گردن کو کیوں موڑ دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا، وہ بھی نوجوان تھا اور لڑکی بھی نوجوان تھی۔ میں شیطان سے امن میں نہیں تھا ان کے بارے میں۔“