السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تحريم النظر إلى الأجنبيات من غير سبب مبيح باب: کسی مباح سبب کے بغیر اجنبی عورتوں کی طرف دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13513
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا بُدٌّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ"، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لیے اور کوئی چارہ کار نہیں ہے، ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم انکار کرتے ہو تو پھر راستے کا حق دو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا، اور سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔“