السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تحريم النظر إلى الأجنبيات من غير سبب مبيح باب: کسی مباح سبب کے بغیر اجنبی عورتوں کی طرف دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13511
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا، فَالْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ، وَزِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ وَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ وَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي وَزِنَاهُ الْقُبَلُ، وَالْقَلْبُ يَهُمُّ أَوْ يَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ " شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعَهُ وَبَصُرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ابنِ آدم کا زنا میں حصہ ہے، آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چلنا ہے، منہ زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ لینا ہے، اور دل ارادہ یا تمنا کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس پر گواہی دی کہ انہوں نے اسے سنا اور دیکھا۔