السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " " أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ " " يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهَا أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِي بَيْتِي، فَقُبِضَ وَأَنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي قَالَتْ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْطَانِيهِ فَقَضِمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس مرض میں سوال کرتے تھے جس میں آپ ﷺ فوت ہوئے کہ ”میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارادہ کرتے تھے، یعنی ان کی باری کا، تو آپ ﷺ کی بیویوں نے اجازت دے دی کہ آپ ﷺ جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں، تو آپ ﷺ کی وفات بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اس دن فوت ہوئے جب باری میری تھی، میرے گھر میں آپ ﷺ کو فوت کیا گیا اور آپ ﷺ کا سر مبارک میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھا اور آپ ﷺ کی تھوک اور میری تھوک بھی مل گئی۔ فرماتی ہیں کہ عبدالرحمن بن ابوبکر داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جو وہ کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! مجھے مسواک دینا، میں نے اس کو نرم کیا، پھر اس کو چبایا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دے دیا، آپ ﷺ نے مسواک کیا، اس حال میں کہ آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگانے والے تھے۔