حدیث نمبر: 13430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " " أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ " " يُرِيدُ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لَهَا أَزْوَاجُهُ يَكُونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدُورُ عَلَيَّ فِي بَيْتِي، فَقُبِضَ وَأَنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَخَالَطَ رِيقُهُ رِيقِي قَالَتْ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْطَانِيهِ فَقَضِمْتُهُ، ثُمَّ مَضَغْتُهُ، فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنَّ بِهِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس مرض میں سوال کرتے تھے جس میں آپ ﷺ فوت ہوئے کہ ”میں کل کہاں ہوں گا؟ میں کل کہاں ہوں گا؟“ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارادہ کرتے تھے، یعنی ان کی باری کا، تو آپ ﷺ کی بیویوں نے اجازت دے دی کہ آپ ﷺ جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں، تو آپ ﷺ کی وفات بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اس دن فوت ہوئے جب باری میری تھی، میرے گھر میں آپ ﷺ کو فوت کیا گیا اور آپ ﷺ کا سر مبارک میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھا اور آپ ﷺ کی تھوک اور میری تھوک بھی مل گئی۔ فرماتی ہیں کہ عبدالرحمن بن ابوبکر داخل ہوئے اور ان کے پاس مسواک تھی جو وہ کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا، میں نے کہا: اے عبدالرحمن! مجھے مسواک دینا، میں نے اس کو نرم کیا، پھر اس کو چبایا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو دے دیا، آپ ﷺ نے مسواک کیا، اس حال میں کہ آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگانے والے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13430
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 4450۔ مسلم 1463»