السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على أن النبي صلى الله عليه وسلم في سوى ما ذكرنا ووصفنا من خصائصه من الحكم بين الأزواج فيما يحل منهن ويحرم بالحادث لا يخالف حلاله حلال باب: اس بات پر استدلال کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کی جن خصوصیات کا ذکر اور وصف بیان کیا ان کے علاوہ حادثاتی طور پر بیویوں کے درمیان حلال و حرام کے فیصلے میں آپ کا حلال کسی دوسرے حلال کے مخالف نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 13429
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جِنَازَةَ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " هَذِهِ مَيْمُونَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " إِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا، فَلَا تُزَعْزِعُوا، وَلَا تُزَلْزِلُوا ارْفُقُوا؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَةٌ لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا " قَالَ عَطَاءٌ: وَالَّتِي لَمْ يَكُنْ يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، هَكَذَا يَقُولُ عَطَاءٌ: إِنَّ الَّتِيَ لَمْ يَقْسِمْ لَهَا صَفِيَّةُ، وَالْأَخْبَارُ الْمَوْصُولَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا سَوْدَةُ، حَيْثُ وَهَبَتْ يَوْمَهَا مِنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں گئے، سرف نامی جگہ میں، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کو اٹھاؤ تو تم زیادہ حرکت نہ دو اور نہ ہلاؤ بلکہ نرمی سے لے کر جاؤ، نبی ﷺ کی نو بیویاں تھیں، باری لگاتے آٹھ کی اور ایک کی باری نہ لگاتے تھے۔
عطاء کہتے ہیں کہ جس کی باری نہیں لگاتے تھے وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ بقیہ موصول شدہ روایات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، انہوں نے اپنا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کر دیا تھا۔