حدیث نمبر: 13375
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدِ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَذَكَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَعَتْ فِيهِ قَالَ: فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ، فَأَخَذْتُهُ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا قَالَ: فَوَقَعَ طِفْلَاهَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مُتَضَمِّخَانِ بِالدَّمِ فَأَصْبَحْتُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسُ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللهِ رَجُلًا رَأَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَعَلَ مَا فَعَلَ، إِلَّا قَامَ قَالَ: فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَعْنِي الْقَاتِلَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ فَذَكَرَ كَلِمَةً قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ: ذَهَبَتْ عَنِّي فَقَالَ وَإِنْ كَانَتْ لِرَفِيقَةٍ لَطِيفَةٍ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ، فَذَكَرْتُكَ فَوَقَعَتْ فِيكَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص تھا، اس کی ایک لونڈی تھی، جس سے اس کی اولاد تھی اور وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتی اور برا بھلا کہتی تھی، وہ اسے منع کرتا تھا مگر وہ نہ مانتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ نہ سمجھتی تھی، ایک رات وہ نبی ﷺ کی بدگوئی کرنے لگی اور آپ ﷺ کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینا نے ایک برجھا لیا اور اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا، اس لونڈی کے پاؤں میں ایک بچہ آ گیا جس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو نبی ﷺ سے اس کے قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے یہ کام کیا ہے، میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔“ وہ نابینا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، اس کے قدم لرز رہے تھے یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے سامنے آ بیٹھا اور بولا: اے اللہ کے رسول! میں اس کا قاتل ہوں، یہ آپ ﷺ کو گالیاں دیتی اور برا بھلا کہتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی، میں اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ سمجھتی تھی، میرے اس سے دو موتیوں جیسے بچے ہیں اور وہ میری بڑی اچھی ساتھی تھی، گزشتہ رات جب وہ آپ ﷺ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے چھرا لیا، اس کے پیٹ پر رکھا اور اپنا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا اور اس کو قتل کر دیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”گواہ ہو جاؤ، اس لونڈی کا خون ضائع ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13375
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداود 4361»