السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: استباحة قتل من سبه أو هجاه امرأة كان أو رجلا باب: آپ ﷺ کو گالی دینے یا آپ کی ہجو (برائی) کرنے والے کو قتل کرنے کے مباح ہونے کا بیان، خواہ وہ عورت ہو یا مرد
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدِ رَجُلٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَذَكَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَعَتْ فِيهِ قَالَ: فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ، فَأَخَذْتُهُ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَيْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا قَالَ: فَوَقَعَ طِفْلَاهَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مُتَضَمِّخَانِ بِالدَّمِ فَأَصْبَحْتُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسُ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللهِ رَجُلًا رَأَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَعَلَ مَا فَعَلَ، إِلَّا قَامَ قَالَ: فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَعْنِي الْقَاتِلَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ فَذَكَرَ كَلِمَةً قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ: ذَهَبَتْ عَنِّي فَقَالَ وَإِنْ كَانَتْ لِرَفِيقَةٍ لَطِيفَةٍ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ، فَذَكَرْتُكَ فَوَقَعَتْ فِيكَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِعْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کی ام ولد (لونڈی جس سے اس کی اولاد تھی) رسول اللہ ﷺ کی بہت بدگوئی کرتی اور آپ ﷺ کو گالیاں دیتی تھی، وہ اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ رکتی، ایک رات اس نے نبی ﷺ کا ذکر کیا اور آپ ﷺ کی بدگوئی کی، (وہ آدمی) کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں اٹھ کر کدال کی طرف گیا، اسے لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ دیا، پھر اس پر اپنا بوجھ ڈالا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ کہتے ہیں: اس کے دو بچے اس کی ٹانگوں کے درمیان خون میں لت پت گر پڑے۔ صبح ہوئی تو نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا، آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: ”میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کام کیا ہے، اگر وہ سمجھتا ہے کہ نبی کا اس پر حق ہے تو کھڑا ہو جائے۔“ تو وہ نابینا، یعنی قاتل، کانپتا ہوا آگے آیا اور اس نے ایک بات کہی (راوی ابو الحسین کہتے ہیں: وہ بات مجھے یاد نہیں رہی) اور کہا: وہ میری بڑی نرم خو اور اچھی ساتھی تھی، لیکن وہ آپ کی بہت بدگوئی کرتی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی، میں اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی، میں اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ رکتی، گزشتہ رات میں نے آپ کا ذکر کیا تو اس نے آپ کی بدگوئی کی، مجھ سے صبر نہ ہو سکا، میں اٹھ کر کدال کی طرف گیا اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔“