السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: استباحة قتل من سبه أو هجاه امرأة كان أو رجلا باب: آپ ﷺ کو گالی دینے یا آپ کی ہجو (برائی) کرنے والے کو قتل کرنے کے مباح ہونے کا بیان، خواہ وہ عورت ہو یا مرد
حدیث نمبر: 13376
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ، فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ، فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا ".حافظ ثناء اللہ
ایک یہودیہ جو نبی ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ ﷺ کی گستاخی کرتی تھی، تو ایک آدمی نے اس کا گلا دبا دیا اور اس کو مار دیا، آپ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔