السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: دخول الحرم بغير إحرام والقتل فيه باب: بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونے اور اس میں قتال کرنے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ، ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَنْ أُحَدِّثَكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَبَصُرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ أَنَّهُ حَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَمْ يُحِلَّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضُدَ بِهَا ⦗٩٦⦘ شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَاذَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ، لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وَلَا فَارًّا بِخُرْبَةٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا، جبکہ وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا: اے امیر! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کو ایک بات سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمائی، جسے میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور جب آپ ﷺ بول رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرمت والا بنایا ہے، لوگوں نے اسے حرمت والا نہیں بنایا، لہٰذا کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ اس کا کوئی درخت کاٹے، اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے اس میں لڑنے کی وجہ سے رخصت نکالے تو اس سے کہہ دو: اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی دن کی صرف ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی اور آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی، لہٰذا جو حاضر ہے وہ غائب کو (یہ بات) پہنچا دے۔“ ابو شریح سے پوچھا گیا: عمرو نے آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا: (عمرو نے کہا:) اے ابو شریح! میں یہ بات تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا، نہ خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ کوئی جرم کر کے بھاگنے والے کو۔