السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أبيح له بتزويج الله وإذا جاز ذلك جاز أن يعقد على امرأة بغير استئمارها باب: آپ ﷺ کے لیے اللہ کے نکاح پڑھانے سے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو یہ بھی جائز ہو گیا کہ آپ کسی عورت سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیں
حدیث نمبر: 13361
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْكُو زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اتَّقِ اللهَ وَأَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ " قَالَ أَنَسٌ: فَلَوْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ قَالَ: فَكَانَتْ تَفْتَخِرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيكُنَّ وَزَوَّجَنِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے پاس آئے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شکایت کر رہے تھے اور نبی ﷺ انہیں فرما رہے تھے: ”﴿أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] اللہ سے ڈرو اور اسے اپنی بیوی بنا کر رکھو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر نبی ﷺ کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو وہ یہی بات تھی، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا باقی بیویوں پر فخر کرتی تھیں کہ: ”تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ پاک نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔“