السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أبيح له بتزويج الله وإذا جاز ذلك جاز أن يعقد على امرأة بغير استئمارها باب: آپ ﷺ کے لیے اللہ کے نکاح پڑھانے سے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو یہ بھی جائز ہو گیا کہ آپ کسی عورت سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ: " اذْهَبْ إِلَيْهَا فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ " قَالَ زَيْدٌ: فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَأَيْتُهَا وَجَدْتُهَا تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا مِنْ عِظَمِهَا فِي صَدْرِي حِينَ عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٩١⦘ يَذْكُرُكِ قَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَطْعَمْنَا عَلَيْهَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حَتَّى اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ حُجَرَ نِسَائِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ فَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ فَدَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ وَوَعَظَ الْقَوْمَ بِمَا وُعِظُوا، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: ٥٣] حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو گئی تو نبی ﷺ نے زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”وہ زینب کے پاس جائے اور ان کے پاس میرا ذکر کرے۔“ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں چلا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنا آٹا خمیر کر رہی تھیں، پس میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ رکھ سکا کیونکہ میرے دل میں ان کی عظمت بڑھ گئی تھی جب میں نے جان لیا کہ نبی ﷺ نے ان کا ذکر کیا ہے، تو میں نے کہا: ”تجھے رسول اللہ ﷺ نے یاد کیا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں، میں کچھ بھی نہیں کروں گی۔“ وہ اپنی نماز والی جگہ پر کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوا اور نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ بغیر اجازت کے ان کے پاس داخل ہو گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ اس (ولیمے) پر ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا گیا یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، لوگ چلے گئے اور کچھ آدمی کھانے کے بعد گھر میں باتیں کرتے رہ گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے چلا، رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے حجروں میں جا کر انہیں سلام کرنے لگے اور وہ کہتیں: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنی اہلیہ کو کیسا پایا؟ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ لوگ چلے گئے ہیں یا آپ ﷺ کو (کسی اور نے) بتایا، چنانچہ آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ گھر آئے اور اندر داخل ہو گئے، میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردے کا حکم نازل ہوا اور لوگوں کو جو نصیحت کی گئی وہ کی گئی، (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 53] یہاں تک کہ ﴿إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53] تک پہنچے۔