السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أبيح له بتزويج الله وإذا جاز ذلك جاز أن يعقد على امرأة بغير استئمارها باب: آپ ﷺ کے لیے اللہ کے نکاح پڑھانے سے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو یہ بھی جائز ہو گیا کہ آپ کسی عورت سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیں
حدیث نمبر: 13362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَفْتَخِرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: إِنَّ اللهَ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ، وَفِيهَا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ قَالَ: فَقَعَدَ الْقَوْمُ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ فَخَرَجَ، فَجَاءَ وَالْقَوْمُ كَمَا هُمْ، فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: ٥٣] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ طَهْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا باقی بیویوں پر فخر کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان پر کیا ہے اور ان کے بارے میں پردے کی آیت نازل ہوئی۔ راوی کہتا ہے کہ لوگ نبی ﷺ کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نکلے پھر واپس گئے، دوبارہ نکلے تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ گویا آپ ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے گئے، (اس وجہ سے) پردے کی آیت نازل ہوئی: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 53]۔