السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره -- باب: ما أبيح له من النساء أكثر من أربع باب: ان امور کے تمام ابواب کا مجموعہ جو دوسروں کے بجائے صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص کیے گئے، جو آپ کے لیے مباح اور دوسروں پر حرام کیے گئے -- باب: آپ ﷺ کے لیے چار سے زائد عورتوں کے مباح ہونے کا بیان
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ} [الأحزاب: 50] إِلَى قَوْلِهِ: {خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ} [الأحزاب: 50]، فَأَحَلَّ لَهُ مَعَ أَزْوَاجِهِ وَكُنَّ ذَوَاتِ عَدَدٍ مَنْ لَيْسَ لَهُ بِزَوْجٍ يَوْمَ أُحِلَّ لَهُ مِنْ بَنَاتِ عَمِّهِ وَبَنَاتِ عَمَّاتِهِ وَبَنَاتِ خَالِهِ وَبَنَاتِ خَالِاتِهِ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَهُ.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ ”بے شک ہم نے آپ کے لیے آپ کی بیویاں حلال کر دی ہیں۔“ [سورة الأحزاب: 50] (اللہ تعالیٰ کے) اس فرمان تک: ﴿خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”(یہ حکم) خاص آپ کے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔“ [سورة الأحزاب: 50]
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کی ان بیویوں کے ساتھ، جو تعداد میں کئی تھیں، ان عورتوں کو بھی حلال کر دیا جو اس دن آپ ﷺ کی بیویاں نہیں تھیں جس دن یہ حلت نازل ہوئی، (یعنی) آپ ﷺ کے چچا کی بیٹیاں، آپ ﷺ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں، آپ ﷺ کے ماموں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي السَّاعَةِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قُلْتُ لِأَنَسٍ: هَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَبِمَعْنَاهُ حَدِيثُ ابْنِ بَشَّارٍ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى: قُوَّةُ أَرْبَعِينَ، وَقَالَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَقَالَ فِي السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَقَالَ: قُوَّةُ ثَلَاثِينَ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ تِسْعَ نِسْوَةٍ.نبی ﷺ اپنی عورتوں پر رات اور دن میں ایک چکر لگاتے اور وہ گیارہ تھیں، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ﷺ اس کی طاقت رکھتے تھے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ آپ ﷺ کو تیس عورتوں سے شادی کی طاقت دی گئی ہے۔