السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: كان لا يجوز له أن يبدل من أزواجه أحدا، ثم نسخ باب: آپ ﷺ کے لیے اپنی بیویوں میں سے کسی کو بدلنا جائز نہیں تھا، پھر یہ منسوخ ہو گیا
حدیث نمبر: 13350
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: خَطَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ فَعَذَرَنِي وَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ} [الأحزاب: ٥٠] إِلَى قَوْلِهِ: {اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ} [الأحزاب: ٥٠] قَالَتْ: " فَلَمْ أَكُنْ أَحِلُّ لَهُ لَمْ أُهَاجِرْ مَعَهُ كُنْتُ مِنَ الطُّلَقَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے میری طرف نکاح کا پیغام بھیجا، میں نے آپ کی طرف عذر پیش کیا اور آپ نے عذر قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ﴾ [سورة الأحزاب: 50]۔
فرماتی ہیں: پھر میں آپ کے لیے حلال نہ ہوئی کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور میں طلاق یافتہ عورت تھی۔