حدیث نمبر: 13344
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ: وَكَانَ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَرَجَعْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللهِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس تھا اور نبی ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا تو آپ ﷺ میرے باپ سے اعراض کر رہے تھے، ہم آپ کے پاس سے چلے تو میرے باپ نے مجھ سے کہا: کیا تو نے میرے بھتیجے کی طرف دیکھا گویا کہ وہ مجھ سے اعراض کر رہا تھا؟ میں نے ان سے کہا: ابا جان! ان کے پاس ایک آدمی تھا، جن سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، انہوں نے کہا: کیا ان کے پاس کوئی موجود تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، ہم واپس آپ ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عبداللہ سے اس اس طرح کہا تو انہوں نے مجھے ویسے ہی جواب دیا، کیا آپ ﷺ کے پاس کوئی تھا؟ آپ ﷺ نے کہا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون؟ کہا: ”وہ جبرائیل تھے جن کے ساتھ میں مصروف تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسند احمد 2679»