السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: كان يؤخذ عن الدنيا، عند تلقي الوحي وهو مطالب بأحكامها عند الأخذ عنها باب: وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ کی توجہ دنیا سے ہٹا لی جاتی تھی حالانکہ آپ وحی لیتے وقت ان (دنیاوی) احکام کے مکلف تھے
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ: وَكَانَ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَرَجَعْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللهِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس تھا اور نبی ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا تو آپ ﷺ میرے باپ سے اعراض کر رہے تھے، ہم آپ کے پاس سے چلے تو میرے باپ نے مجھ سے کہا: کیا تو نے میرے بھتیجے کی طرف دیکھا گویا کہ وہ مجھ سے اعراض کر رہا تھا؟ میں نے ان سے کہا: ابا جان! ان کے پاس ایک آدمی تھا، جن سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، انہوں نے کہا: کیا ان کے پاس کوئی موجود تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، ہم واپس آپ ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عبداللہ سے اس اس طرح کہا تو انہوں نے مجھے ویسے ہی جواب دیا، کیا آپ ﷺ کے پاس کوئی تھا؟ آپ ﷺ نے کہا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون؟ کہا: ”وہ جبرائیل تھے جن کے ساتھ میں مصروف تھا۔“