کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: وحی کے نزول کے وقت آپ ﷺ کی توجہ دنیا سے ہٹا لی جاتی تھی حالانکہ آپ وحی لیتے وقت ان (دنیاوی) احکام کے مکلف تھے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، ح، قَالَ: وَثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيَفْصِمُ عَنِّي، وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ الْمَلَكُ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا، فَيُعَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَأَنَّ جَبِينَهُ لَيتَفَصَّدُ عَرْقًا قَالَ الْقَعْنَبِيُّ فَيُكَلِّمُنِي " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کبھی کبھی وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور یہ مجھ پر بہت زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ مجھ سے منقطع ہو جاتی ہے اور میں اس کو یاد کر لیتا ہوں جو کچھ فرشتے نے کہا ہوتا ہے، اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے، وہ مجھے پڑھاتا ہے اور میں اس کو یاد کر لیتا ہوں۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سخت سردی کے دن آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتے دیکھی، پھر جب وہ آپ ﷺ سے منقطع ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13342
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2
تخریج حدیث «بخاري 2۔ مسلم 2333»
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ عَقِبِيًّا بَدْرِيًّا، أَحَدَ نُقَبَاءِ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كَرِبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے تکلیف ہوتی اور چہرہ سرخ ہو جاتا یا کانپ جاتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13343
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1690»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ: وَكَانَ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَرَجَعْنَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللهِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس تھا اور نبی ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا جو آپ ﷺ سے سرگوشی کر رہا تھا تو آپ ﷺ میرے باپ سے اعراض کر رہے تھے، ہم آپ کے پاس سے چلے تو میرے باپ نے مجھ سے کہا: کیا تو نے میرے بھتیجے کی طرف دیکھا گویا کہ وہ مجھ سے اعراض کر رہا تھا؟ میں نے ان سے کہا: ابا جان! ان کے پاس ایک آدمی تھا، جن سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، انہوں نے کہا: کیا ان کے پاس کوئی موجود تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، ہم واپس آپ ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عبداللہ سے اس اس طرح کہا تو انہوں نے مجھے ویسے ہی جواب دیا، کیا آپ ﷺ کے پاس کوئی تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اے عبداللہ! کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل تھے جن کے ساتھ میں مصروف تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسند احمد 2679»