السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: كان لا يصلي على من عليه دين، ثم نسخ باب: آپ ﷺ اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہو، پھر یہ منسوخ ہو گیا
حدیث نمبر: 13345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ، فَيَسْأَلُ: " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟ " فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ، فَقَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا، فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کے پاس فوت شدہ آدمی جس پر قرض ہوتا لایا جاتا، آپ ﷺ سوال کرتے: ”کیا اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز ہے؟“ اگر کہا جاتا کہ موجود ہے تو نماز جنازہ پڑھا دیتے، اس کے علاوہ کہہ دیتے: ”اپنے بھائی پر نماز جنازہ پڑھو۔“ جب فتوحات کا سلسلہ زیادہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں مومنوں کا ان کے نفسوں سے زیادہ حق دار ہوں، جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس نے قرض چھوڑا ہو تو وہ مجھ پر ہے (یعنی ادائیگی) اور جس نے مال چھوڑا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔“