❮
❯
حدیث نمبر: 13331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، أَنَّ يَعْلَى، كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ عَلَيْهِ، وَمَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَهُ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتَمَسَ الرَّجُلَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ"، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ وَفِيهِ قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبِكْرِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ كُلُّهُمْ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ مُسَدَّدٌ: ثنا يَحْيَى فَذَكَرَهُ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا یعلیٰ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یعلیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں رسول اللہ ﷺ کو اس وقت دیکھوں جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ جب نبی ﷺ جعرانہ مقام پر تھے اور آپ ﷺ پر کپڑا تھا، جس نے آپ ﷺ پر سایہ کیا ہوا تھا، آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ میں سے کچھ لوگ بھی تھے۔ ایک آدمی آیا جو کہ خوشبو میں لت پت تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ کا اس بندے کے بارے میں کیا خیال ہے، جو اپنے جبہ کو احرام بنا لیتا ہے خوشبو لگانے کے بعد؟“ نبی ﷺ نے ایک لمحہ کے لیے اس کو دیکھا، پھر وحی آگئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آؤ، یعلیٰ آئے اور اپنا سر (کپڑے کے) اندر داخل کیا تو دیکھا کہ آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہے اور آپ ﷺ زور زور سے سانس لے رہے ہیں، کچھ دیر یہی حالت رہی پھر یہ کیفیت آپ ﷺ سے دور ہو گئی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جس نے عمرہ کے بارے میں ابھی ابھی سوال کیا ہے؟“ ایک آدمی نے اس کو تلاش کیا اور پھر اس کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو خوشبو تجھے لگی ہوئی ہے، اس کو تین مرتبہ دھو لو اور جو جبہ ہے اس کو اتار لو۔ پھر اپنے عمرے میں ہر وہ کام کر جو اپنے حج میں کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13331
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري، مسلم 1180»