السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: كان لا يأكل الثوم والبصل والكراث وقال: " لولا أن الملك يأتيني لأكلته " باب: آپ ﷺ لہسن، پیاز اور گندنا (لیک) نہیں کھاتے تھے اور آپ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس فرشتہ نہ آتا تو میں اسے ضرور کھاتا“
حدیث نمبر: 13330
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ⦗٨٠⦘ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ ثَوْمًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدِنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ "، وَأَنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خُضْرَوَاتٌ مِنَ الْبُقُولِ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: " قَرِّبُوهَا " إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا قَالَ: " كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي " قَالَ أَحْمَدُ: بِبَدْرٍ فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَغَيْرُهُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے علیحدہ ہو جائے یا ہماری مسجد سے علیحدہ ہو جائے اور وہ اپنے گھر میں بیٹھ جائے۔“
آپ ﷺ کے پاس ایک تھال لایا گیا جس میں سرسبز سبزیاں تھیں تو آپ ﷺ نے ان کی بو کو محسوس کیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تو آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ اس میں فلاں فلاں سبزیاں ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو بعض صحابہ کے نزدیک کر دو“ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو فرمایا: ”تم کھاؤ، میں اس سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم سرگوشی نہیں کرتے۔“ یعنی (فرشتے)۔