السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: كان لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى باب: آپ ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے تھے، وہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو نازل کی جاتی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " لَا أَدْرِي "، فَقَالَ " أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ قَالَ: " لَا أَدْرِي "، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ: " يَا جِبْرِيلُ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: " أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ " قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ " قَالَ: فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْتِفَاضَةً كَادَ يُصْعَقُ مِنْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ اللهُ جَلَّ وَعَلَا لِجِبْرِيلَ: سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ فَقُلْتَ لَا أَدْرِي، وَسَأَلَكَ أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ، فَقُلْتَ لَا أَدْرِي، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ " وَفِي هَذَا الْمَعْنَى أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! سب سے بہترین ٹکڑا کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معلوم نہیں۔“ پھر اس نے کہا: سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معلوم نہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”اے جبرائیل! سب سے بہترین ٹکڑا کون سا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: مجھے پتا نہیں، تو پھر آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے جبرائیل! سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔ اپنے رب سے سوال کریں، راوی کہتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام پر کپکپی طاری ہو گئی، قریب تھا کہ محمد ﷺ بے ہوش ہو کر گر جاتے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں سوال نہیں کروں گا،“ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین سے کہا: محمد ﷺ نے تجھ سے پوچھا: کون سی جگہ سب سے بہتر ہے؟ تو تو نے کہا: مجھے معلوم نہیں، آپ انہیں بتلا دیجیے: ”مساجد سب سے بہترین جگہ ہیں اور بازار سب سے بری جگہ ہیں۔“