السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13313
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ: " كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ، وَلَا رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ.حافظ ثناء اللہ
قتادہ فرماتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور روٹیاں پکانے والا کھڑا ہو جاتا، انس رضی اللہ عنہ فرماتے: کھاؤ! میں نہیں جانتا کہ نبی ﷺ کو کسی نے کبھی چپاتی کھاتے ہوئے دیکھا ہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے اور نہ ہی کسی نے بھنی ہوئی بکری کھاتے دیکھا۔