السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
حدیث نمبر: 13312
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَقَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِنَا الْهِلَالُ وَالْهِلَالُ وَالْهِلَالُ، مَا نُوقِدُ بِنَارٍ لِطَعَامٍ، إِلَّا أَنَّهُ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ حَوْلَنَا أَهْلُ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَيَبْعَثُ أَهْلُ كُلِّ دَارٍ بِغَرِيزَةِ شَاتِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنُ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ عُرْوَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آلِ محمد ﷺ پر کئی کئی مہینے گزر جاتے لیکن آپ کے چولہے میں آگ نہ جلتی، سوائے کھجوروں اور پانی کے؛ ہمارے ارد گرد انصار کے گھر تھے تو انصار کے لوگ دودھ والی بکری نبی ﷺ کی طرف بھیجتے تھے، تو آپ ﷺ اس سے دودھ حاصل کرتے تھے۔