کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اعْتِزَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ، فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارُهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَنَظَرْتُ فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظٍ فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ، وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ قَالَ: فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَالِي لَا ⦗٧٤⦘ أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا، إِلَّا مَا أَرَى وَذَلِكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُهُ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟ " قُلْتُ: بَلَى وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: " أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے اوپر آپ کی چادر تھی اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا اور چٹائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو پر پڑگئے تھے۔ میں نے نگاہ دوڑائی تو آپ ﷺ کی الماری میں چند جو تھے جو تقریباً ایک صاع تھے اور اس کے برابر سلم کے تھے ایک کمرے کے کونے میں پڑے ہوئے تھے اور کچا چمڑا بھی لٹکا ہوا تھا۔
میری آنکھیں بہہ پڑیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی کے نشانات اور میں نے آپ ﷺ کی الماری میں کچھ نہیں دیکھا (وہ بھی خالی ہے) قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں ہوں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہو کر بھی اتنی سادگی میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ یہ سب چیزیں ہمارے لیے آخرت میں ہوں اور ان کے لیے دنیا میں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔
میری آنکھیں بہہ پڑیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی کے نشانات اور میں نے آپ ﷺ کی الماری میں کچھ نہیں دیکھا (وہ بھی خالی ہے) قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں ہوں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہو کر بھی اتنی سادگی میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ یہ سب چیزیں ہمارے لیے آخرت میں ہوں اور ان کے لیے دنیا میں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا سَرَّنِي أَنْ يَأْتِيَ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر احد پہاڑ میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو یہ بات مجھے اچھی نہیں لگے گی کہ تین راتیں گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے کچھ (باقی) ہو، سوائے اس کے جو میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ چھوڑا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ عُمَارَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا» ”اے اللہ! آلِ محمد ﷺ کو اتنا رزق عطا کر جس سے وہ اپنی کمر سیدھی رکھ سکیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مِرَارًا يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوحازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اپنی انگلیوں سے بار بار اشارہ کر رہے تھے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی ﷺ اور آپ کے اہل و عیال نے کبھی بھی لگاتار تین دن گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ دنیا سے چلے گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا شَبِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی مسلسل تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، حتیٰ کہ اپنے راستے کو ہو لیے (فوت ہوگئے)۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٧٥⦘ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو معاویہ رحمہ اللہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے، صرف یہ زیادتی ہے: ”جب سے مدینہ آئے“ اور (راوی نے) کہا: ”گندم کی روٹی سے۔“
وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفُضَيْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَابِسُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً، البتہ منصور عن ابراہیم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”آلِ محمد ﷺ نے رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے سے لے کر آپ ﷺ کی وفات تک کبھی لگاتار تین راتیں گندم کا کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَقَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِنَا الْهِلَالُ وَالْهِلَالُ وَالْهِلَالُ، مَا نُوقِدُ بِنَارٍ لِطَعَامٍ، إِلَّا أَنَّهُ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، إِلَّا أَنَّهُ حَوْلَنَا أَهْلُ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَيَبْعَثُ أَهْلُ كُلِّ دَارٍ بِغَرِيزَةِ شَاتِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنُ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آلِ محمد ﷺ پر کئی کئی مہینے گزر جاتے لیکن آپ کے چولہے میں آگ نہ جلتی، سوائے کھجوروں اور پانی کے؛ ہمارے ارد گرد انصار کے گھر تھے تو انصار کے لوگ دودھ والی بکری نبی ﷺ کی طرف بھیجتے تھے، تو آپ ﷺ اس سے دودھ حاصل کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَتَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ: " كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ، وَلَا رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ فرماتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور روٹیاں پکانے والا کھڑا ہو جاتا، انس رضی اللہ عنہ فرماتے: کھاؤ! میں نہیں جانتا کہ نبی ﷺ کو کسی نے کبھی چپاتی کھاتے ہوئے دیکھا ہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے اور نہ ہی کسی نے بھنی ہوئی بکری کھاتے دیکھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا أَكَلَ ⦗٧٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَائِدَةٍ قَطُّ، وَلَا أَكَلَ خُبْزَ رِقَاقٍ قَطُّ، وَلَا اصْطَبَغَ فِي سُكُرُجَةٍ قَطُّ قَالَ: فَقِيلَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ فَعَلَى أِيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے میز (خوان) پر کبھی بھی کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی میدے کی روٹی کھائی ہے اور نہ ہی کبھی چھوٹی پیالی میں سالن ڈال کر کھایا۔ ان سے پوچھا گیا: اے ابو حمزہ! آپ ﷺ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: چٹائی پر۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كُنَّا نُخْرِجُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَنَأْكُلُهُ، فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ؟ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم بکری کی پنڈلی کا گوشت پندرہ دن بعد نکالتے تھے اور ہم اسے کھاتی تھیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتی تھیں؟ تو وہ ہنس پڑیں اور فرمایا: آلِ محمد ﷺ نے کبھی تین دن پیٹ بھر کر سالن کے ساتھ روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ ﷺ اللہ عزوجل سے جا ملے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي بَيْتِي شَيْءٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو میرے گھر میں کچھ جَو کے سوا، جو ایک طاق میں رکھے ہوئے تھے، اور کوئی چیز نہ تھی جو کسی جان دار کی خوراک بن سکتی، میں اس سے کھاتی رہی اور بہت دن گزر گئے، پھر میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ " فِرَاشُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الرَّجَاءِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کا بستر (گدا) چمڑے کا تھا اور اسے کھجور کے پتوں سے بھرا گیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ هُوَ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِيَّ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " فَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْثُلُونَهَا " ⦗٧٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَحْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور میں جامع کلمات دیا گیا ہوں۔ ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے ہاتھ پر لا کر رکھ دی گئیں۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ تو چلے گئے اور تم ان (خزانوں) کو نکال رہے ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ الْخَزَائِنَ، وَخُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَبْقَى حَتَّى أَرَى مَا يُفْتَحُ عَلَى أُمَّتِي وَبَيْنَ التَّعْجِيلِ فَاخْتَرْتُ التَّعْجِيلَ ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور مجھے خزانے دیے گئے ہیں اور مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں زندہ رہوں اور میں دیکھوں جو میری امت پر کھولا جائے گا اور جلدی کا بھی اختیار دیا گیا، لیکن میں نے جلدی کو پسند کیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ وَلَمْ يُرِدِ الدُّنْيَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو دنیا اور آخرت میں اختیار دیا تو آپ ﷺ نے آخرت کو پسند کیا اور دنیا کا ارادہ نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلَكٌ لَمْ يَعْرِفْهُ، فَقَالَ: " إِنَّ رَبَّكَ تَعَالَى يُخَيِّرُكَ بَيْنَ أَنْ تَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا أَوْ نَبِيًّا مَلَكًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ تَوَاضَعَ قَالَ: " نَبِيًّا عَبْدًا ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی طرف ایک فرشتہ بھیجا گیا، جس کو آپ ﷺ جانتے نہیں تھے، اس نے کہا: ”آپ کا رب تعالیٰ آپ کو اختیار دیتا ہے کہ آپ نبی بندے بنیں یا نبی بادشاہ؟“ تو جبرائیل علیہ السلام نے اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نبی بندہ بننا چاہتا ہوں۔“