السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أمره الله تعالى به من اختيار الآخرة على الأولى، ولا يمد عينيه إلى زهرة الحياة الدنيا، فقال تعالى: ولا تمدن عينيك إلى ما متعنا به أزواجا منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه ورزق ربك خير وأبقى باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینے کا حکم دیا، اور یہ کہ آپ دنیاوی زندگی کی رونق کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ ہرگز اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف نہ دوڑائیں جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے طور پر دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزما سکیں، اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ التَّاجِرُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اعْتِزَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ، فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارُهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَنَظَرْتُ فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظٍ فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ، وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ قَالَ: فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَالِي لَا ⦗٧٤⦘ أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا، إِلَّا مَا أَرَى وَذَلِكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُهُ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟ " قُلْتُ: بَلَى وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ: " أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ".سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے اوپر آپ کی چادر تھی اس کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھا اور چٹائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو پر پڑگئے تھے۔ میں نے نگاہ دوڑائی تو آپ ﷺ کی الماری میں چند جو تھے جو تقریباً ایک صاع تھے اور اس کے برابر سلم کے تھے ایک کمرے کے کونے میں پڑے ہوئے تھے اور کچا چمڑا بھی لٹکا ہوا تھا۔
میری آنکھیں بہہ پڑیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میں کیوں نہ روؤں، یہ چٹائی کے نشانات اور میں نے آپ ﷺ کی الماری میں کچھ نہیں دیکھا (وہ بھی خالی ہے) قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں ہوں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہو کر بھی اتنی سادگی میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ یہ سب چیزیں ہمارے لیے آخرت میں ہوں اور ان کے لیے دنیا میں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔