السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما أمره الله تعالى به من المشورة، فقال: وشاورهم في الأمر باب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو مشاورت کا حکم دیا، پس فرمایا: ”اور معاملات میں ان سے مشورہ کریں“
حدیث نمبر: 13304
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: " إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَنِيًّا عَنِ الْمُشَاوَرَةِ، وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَسْتَنَّ بِذَلِكَ الْحُكَّامُ بَعْدَهُ وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے: نبی ﷺ مشاورت سے مستغنی تھے، تاکہ آپ کے بعد حکام اس کو سنت بنا لیں۔