السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له إذا لبس لأمته أن ينزعها حتى يلقى العدو ولو بنفسه باب: یہ جائز نہیں تھا کہ جب آپ اپنی زرہ پہن لیں تو دشمن سے مقابلہ کیے بغیر اسے اتاریں، خواہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَهُ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ كَانَ رَأْيُهُ أَنْ يُقِيمَ بِالْمَدِينَةِ فَيُقَاتِلَهُمْ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ نَاسٌ لَمْ يَكُونُوا شَهِدُوا بَدْرًا تَخْرُجُ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِلَيْهِمْ نُقَاتِلُهُمْ بِأُحُدٍ، وَرَجَوْا ⦗٦٦⦘ أَنْ يُصِيبُوا مِنَ الْفَضِيلَةِ، مَا أَصَابَ أَهْلُ بَدْرٍ، فَمَا زَالُوا بِهِ حَتَّى لَبِسَ أَدَاتَهُ، ثُمَّ نَدِمُوا، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَقِمْ فَالرَّأْيُ رَأْيُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَضَعَ أَدَاتَهُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ " قَالَ: وَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَلْبَسَ الْأَدَاةَ: " إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَإِنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنَّ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ فُلَّ، فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا فِيكُمْ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللهِ خَيْرٌ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کے دن ذوالفقار نامی تلوار کے ساتھ قتال کیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن خواب دیکھا، وہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی رائے احد والے دن جب مشرکین آئے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ان سے لڑائی کی جائے تو جو لوگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم ان سے باہر نکل کر قتال کریں گے، انہیں امید تھی کہ وہ بدر والوں کی فضیلت حاصل کر لیں گے، انہوں نے اصرار کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جنگی لباس پہن لیا، پھر ان لوگوں کو ندامت ہوئی اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! فیصلہ درحقیقت وہی ہے جو آپ کا فیصلہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی کی شان نہیں کہ وہ جنگی لباس پہننے کے بعد اتار دے“، رسول اللہ ﷺ نے ان سے جنگی ہتھیار پہننے سے پہلے کہا: ”میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط قلعے میں ہوں، میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ مدینہ شہر ہے، پھر میں نے دیکھا کہ میں بڑے پتھر کے پیچھے ہوں تو میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ ایک بڑی فوج کا دستہ ہے، میں نے اپنی تلوار ذوالفقار دیکھی کہ اس میں دندانے پڑ گئے ہیں تو تم میں کوئی خرابی ہوگی، بعد میں گائے ذبح ہوتے دیکھی، گائے اللہ کی بھلائی ہے“، دوسری مرتبہ آپ ﷺ نے پھر یہی کہا۔