السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له إذا لبس لأمته أن ينزعها حتى يلقى العدو ولو بنفسه باب: یہ جائز نہیں تھا کہ جب آپ اپنی زرہ پہن لیں تو دشمن سے مقابلہ کیے بغیر اسے اتاریں، خواہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ أُحُدٍ وَإِشَارَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ بِالْمُكْثِ فِي الْمَدِينَةِ، وَأَنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ أَبَوْا إِلَّا الْخُرُوجَ إِلَى الْعَدُوِّ قَالَ: وَلَوْ تَنَاهَوْا إِلَى قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْرِهِ كَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَلَكِنْ غَلَبَ الْقَضَاءُ وَالْقَدَرُ قَالَ: وَعَامَّةُ مَنْ أَشَارَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ رِجَالٌ لَمْ يَشْهَدُوا بَدْرًا وَقَدْ عَلِمُوا الَّذِي سَبَقَ لِأَهْلِ بَدْرٍ مِنَ الْفَضِيلَةِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ وَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَأَمَرَهُمْ بِالْجِدِّ وَالِاجْتِهَادِ، ثُمَّ انْصَرَفَ مِنْ خُطْبَتِهِ وَصَلَاتِهِ، فَدَعَا بِلَأْمَتِهِ فَلَبِسَهَا، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ، فَلَمَّا أَبْصَرَ ذَلِكَ رِجَالٌ مِنْ ذَوِي الرَّأْيِ، قَالُوا: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَمْكُثَ بِالْمَدِينَةِ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْنَا الْعَدُوُّ قَاتَلْنَاهُمْ فِي الْأَزِقَّةِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِاللهِ وَبِمَا يُرِيدُ وَيَأْتِيهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَشْخَصْنَاهُ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَنَمْكُثُ كَمَا أَمَرْتَنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ إِذَا أَخَذَ لَامَّةَ الْحَرْبِ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ إِلَى الْعَدُوِّ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى يُقَاتِلَ، وَقَدْ دَعَوْتُكُمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَأَبَيْتُمْ إِلَّا الْخُرُوجَ، فَعَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالصَّبْرِ إِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ وَانْظُرُوا مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوهُ "، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهَكَذَا ذَكَرَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ شُيُوخِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَغَازِي وَهُوَ عَامٌّ فِي أَهْلِ الْمَغَازِي وَإِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا وَكَتَبْنَاهُ مَوْصُولًا بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.جب نبی ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو لوگوں کو وعظ کیا اور ان کو محنت اور کوشش کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب آپ ﷺ اپنی نماز اور خطبے سے واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے درع منگوائی اور اس کو پہن لیا۔ پھر لوگوں میں اعلان کروایا کہ وہ جنگ کے لیے نکلیں۔ جب ان لوگوں نے دیکھا جن کے دلوں میں بیماری تھی، تو کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ہم مدینہ میں ٹھہریں۔ اگر مدینے میں دشمن داخل ہو گئے تو ہم ان کا مقابلہ کریں گے، حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا تھا جو وہ ارادہ رکھتے تھے۔ پھر آسمان سے وحی آئی، پھر ہم نے اسے روانگی کا وقت سمجھا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم ٹھہرے رہیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے ہم کو حکم دیا ہے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ جب وہ لڑائی کا سامان پکڑ لے اور لوگوں کو دشمن کی طرف نکلنے کا حکم دے تو وہ واپس آئے حتیٰ کہ وہ قتل ہو جائے۔ میں تم کو اس کی طرف بلاتا ہوں اور تم نکلنے سے انکار کرتے ہو۔“ پھر فرمایا: ”تقویٰ اور صبر کو لازم پکڑو، جب تم دشمن سے ملو تو دیکھو، میں تم کو کیا حکم دیتا ہوں، اس کام کو کر گزرو۔“ پس نبی ﷺ بھی نکلے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلے۔