السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لم يكن له إذا سمع المنكر، ترك النكير باب: جائز نہیں کہ جب آپ کوئی برائی سنیں تو اس پر انکار (منع) کرنا چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 13283
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ، إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ، فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بھی نبی ﷺ کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے ہمیشہ آسان کو منتخب کیا، جب کہ اس میں کوئی برائی نہ ہو۔ اگر اس میں کوئی برائی ہوتی تو آپ ﷺ لوگوں کی نسبت اس کام سے زیادہ دور ہوتے اور نبی ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمت کو پامال کیا جا رہا ہو تو صرف اللہ کے لیے انتقام لیا ہے۔