حدیث نمبر: 13266
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ إِنِّي مُخْبِرُكِ خَبَرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوِيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ثُمَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا، وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، فَإِنَّ اللهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: ٢٩] " فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوِيَّ ‍‍ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُهُ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دو تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! میں تجھے ایسی خبر دینے والا ہوں، تجھ پر لازم ہے کہ تو جلدی نہ کرے، یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کرلے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ ﷺ سے جدا ہونے کا حکم نہیں دیں گے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ...﴾ [سورة الأحزاب: 28-29] پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں۔ پھر تمام بیویوں نے یہی کہا جو میں نے کہا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13266
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 4786
تخریج حدیث «بخاري 4786۔ مسلم 1475»