السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: ما جاء في موضع الوسم وفي صفة الوسم باب: داغنے کی جگہ اور داغنے کی کیفیت کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13265
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: " كُنْتُ بِبَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ مَكْتُوبٌ عَلَى أَفْخَاذِهَا عِدَّةٌ لِلَّهِ " قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ الْكَلَامُ عَلَى مَا رُوِيَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرِّكَازِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِهَذَا الْكِتَابِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
صفوان بن عمر کہتے ہیں کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دروازے پر تھا کہ ہم پر ایسا گھوڑا نکلا کہ اس کی رانوں پر لکھا ہوا تھا: «عُدَّةٌ لِلَّهِ» ”اللہ کے لیے سامانِ جنگ“۔
شیخ فرماتے ہیں: رکاز کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو منقول ہے، اس پر کتاب الزکوٰۃ میں بحث گزر چکی ہے۔