حدیث نمبر: 13267
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٥٩⦘ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: ٤]، حَتَّى حَجَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، عَدَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِحَاجَتِهِ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ أَتَى، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: ٤]؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: كَرِهَ وَاللهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ، قَالَ: هِيَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ، ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ، فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ، قَالَ: وَكَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِي، فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِي، فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي فَقَالَتْ: مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ؟ لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا، وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ، وَلَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: وَكَانَ لِي جَارٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا، فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ: وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تَنَعَّلَ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا، فَنَزَلَ صَاحِبِي يَوْمًا، ثُمَّ أَتَانِي عِشَاءً، فَضَرَبَ بَابِي، ثُمَّ نَادَانِي، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قَالَ: قُلْتُ: مَاذَا أَجَاءَتْ غَسَّانُ؟ قَالَ: بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ، طَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ خَابَتْ وَخَسِرَتْ، قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا، حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ نَزَلْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِي، هُوَ هَذَا مُعْتَزِلًا فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ، فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدُ فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلِيَّ، فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَوْمٌ حَوْلَ الْمِنْبَرِ جُلُوسٌ يَبْكِي بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ قَلِيلًا حَتَّى غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلِيَّ، فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ، فَصَمَتَ، فَخَرَجْتُ، فَجَلَسْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ، فَأَتَيْتُ الْغُلَامَ، فَقُلْتُ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلِيَّ، فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ قَالَ: فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي، فَقَالَ: ادْخُلْ قَدْ أَذِنَ لَكَ فَدَخَلْتُ، فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِمَالِ⦗٦٠⦘ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَقُلْتُ: أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ نِسَاءَكَ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلِيَّ وَقَالَ: " لَا "، فَقُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ، لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللهِ وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ، فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِي يَوْمًا وَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي يَعْنِي فَأَنْكَرْتُ، فَقَالَتْ: مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ، فَوَاللهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ، أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ يَعْنِي قَدْ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: لَا يَغُرَّنَّكِ إِنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ مِنْكِ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكِ، فَتَبَسَّمَ أُخْرَى، فَقُلْتُ: اسْتَأْنِسْ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، فَجَلَسْتُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ، فَوَاللهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ، إِلَّا أُهُبًا ثَلَاثَةً، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ، وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللهَ، فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ: " أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ " أُولَئِكَ قَوْمٌ قَدْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا "، فَقُلْتُ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ يَا رَسُولَ اللهِ وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِمْ حَتَّى عَاتَبَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا تَعْنِي شَهْرًا إِنَّكَ دَخَلْتَ عَلَيَّ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "، ثُمَّ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِي قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا} [الأحزاب: ٢٨] الْآيَةَ قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ وَاللهِ أَنَّ أَبَوِيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ: قُلْتُ: أَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوِيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ " قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَا تَقُلْ إِنِّي اخْتَرْتُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا بُعِثْتُ مُبَلِّغًا وَلَمْ أُبْعَثْ مُتَعَنِّتًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِطُولِهِ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کروں کہ وہ دو عورتیں کون سی ہیں جن کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا۔ راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ الگ ہوگئے، قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، میں بھی برتن لے کر آپ کے ساتھ گیا۔ پھر آپ نکلے تو میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر پانی بہایا۔ آپ نے وضو فرمایا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! نبی ﷺ کی کون سی دو بیویاں ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا﴾ [سورة التحريم: 4]؟ عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن عباس! تجھ پر تعجب ہے! (زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قسم بخدا! انہوں نے اس کے سوال کو ناپسند کیا، آپ نے اسے چھپایا نہیں بلکہ فرمایا): وہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، پھر واقعہ بیان کرنا شروع ہوئے کہ ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب رہتے تھے۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے یہاں ایسے لوگ دیکھے جن پر عورتیں غالب ہیں تو ہماری عورتیں بھی ان سے سیکھنے لگیں، فرماتے ہیں: میرا گھر بنو امیہ بن زید کے بالائی جانب تھا، ایک روز میں اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی، مجھے اس کے جواب دینے پر تعجب ہوا، وہ کہنے لگی: آپ کو میرے جواب دینے پر تعجب کیوں ہوا؟ قسم بخدا! نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات آپ کو جواب دیتی ہیں اور آج تو ان میں سے ایک نے آپ سے رات تک علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں: میں حفصہ کی طرف گیا، میں نے کہا: کیا تو بھی رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اور آج رات تو ان میں سے ایک نے آپ سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے۔ میں نے کہا: تم میں سے جس نے یہ کام کیا ہے وہ تو خسارے میں رہی۔ کیا تم میں سے کوئی اس سے مطمئن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نہ ہوگا؟ وہ تو ہلاک ہوچکی، تم ہرگز رسول اللہ ﷺ کو جواب نہ دیا کرو اور نہ آپ سے کسی چیز کا سوال کرو، جو چاہیے مجھ سے مانگ لیا کرو اور تمہیں پڑوسن دھوکے میں نہ ڈالے وہ تمہاری نسبت رسول اللہ ﷺ کو زیادہ محبوب ہے، ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
فرماتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس باری باری جاتے رہتے۔ ایک دن وہ آپ کے پاس جاتا تو دوسرے دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا۔ وہ مجھے کوئی وحی سناتا اور میں بھی اسی طرح کوئی واقعہ سناتا۔ ہم باتیں کر رہے تھے کہ غسان قبیلہ نے ہم سے جنگ کے لیے گھوڑے کے کھر تیار کر لیے ہیں۔ میرا دوست آیا۔ پھر وہ رات کو عشا میں بھی میرے پاس آیا، اس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دی، میں اس کی طرف نکلا تو اس نے کہا: بہت بڑا واقعہ پیش آگیا ہے۔ میں نے کہا: کیا غسان والے نکل آئے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے بھی بڑا اور اہم۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے کہا: حفصہ تو خائب و خاسر ہوگئی۔ میرا گمان تھا کہ ایسا ہونے والا ہے۔ جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو اپنے کپڑے سمیٹے اور حفصہ کے پاس چلا آیا۔ دیکھا تو وہ رو رہی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا واقعی رسول اللہ ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟
انہوں نے کہا: میں نہیں جانتی، وہ اس معاملہ میں جدائیگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میں آپ کے ایک حبشی غلام سے ملا، میں نے اسے کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو۔ غلام داخل ہوا۔ پھر میرے پاس آیا اور کہا: آپ کا ذکر ان کے سامنے کیا گیا تو وہ خاموش رہے۔ میں مسجد کی طرف چلا گیا۔ وہاں لوگ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں تھوڑی دیر بیٹھا رہا، پھر مجھ پر میرا وجدان غالب آگیا تو واپس غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو۔ غلام اندر گیا اور باہر آ کر وہی جواب دیا، میں پھر مسجد میں منبر کے پاس جا بیٹھا۔ لیکن پھر وہی کیفیت ہوئی تو تیسری بار پھر گیا اور اجازت چاہی۔ جب اجازت نہ ملی تو پیٹھ پھیر کر چل پڑا۔ اچانک غلام مجھے آواز دینے لگا کہ آئیے آپ کو اجازت مل گئی ہے۔ میں اندر گیا اور رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کیا۔ آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس کے نشان آپ کے بدن پر ظاہر تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا واقعی آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ ﷺ نے میری طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: اللہ اکبر! اے اللہ کے رسول! ہمیں دیکھیے، ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب رہتے تھے، جب سے ہم مدینہ آئے، وہاں ہم نے ایسی قوم دیکھی جن پر ان کی عورتیں غالب ہیں۔ اب ہماری عورتیں بھی ان سے سیکھنے لگی ہیں۔ ایک دن میں اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی۔ مجھے تعجب ہوا تو وہ کہنے لگی: آپ کو تعجب کیوں ہے؟ قسم بخدا! نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات آپ کو جواب بھی دیتی ہیں اور آج تو ان میں سے ایک نے آپ سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے۔ میں نے کہا: پھر تو وہ تباہ و برباد ہوگئی۔ کیا تم میں سے کوئی اس سے مطمئن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اس پر غضب نازل ہو۔ وہ تو ہلاک ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ (یہ سن کر) مسکرا دیے۔ میں نے کہا: پھر میں حفصہ کے پاس گیا۔ میں نے اسے کہا: تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تیری پڑوسن رسول اللہ ﷺ کو تجھ سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ پھر مسکرائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مانوس ہو جاؤں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں بیٹھ گیا، پھر میں نے سر اٹھا کر گھر میں نظر دوڑائی۔ قسم بخدا! میں نے تاحد نگاہ کچھ نہ دیکھا سوائے تین چمڑوں کے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اپنی امت کے لیے وسعت کی دعا فرمائیے۔ روم و فارس پر کس قدر وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ آپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اے عمر! کیا تم شک میں ہو! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی پسندیدہ چیزیں دنیا میں دے دی گئی ہیں۔“ میں نے کہا: میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے قسم اٹھالی تھی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہ جائیں گے ان کو سختی سے تنبیہ کرنے کی غرض سے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے معاملہ صاف کروایا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ۲۹ راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے ابتدا کی۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو ہمارے پاس ۳۰ دن نہ آنے کی قسم اٹھائی تھی جبکہ ابھی تو ۲۹ دن ہوئے ہیں، میں گنتی رہی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے عائشہ! میں نے تم سے ایک بات کہنی ہے تم اس میں جلدی نہ کرنا، بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرلینا۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھے یہ آیت سنائی: ﴿یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا﴾ [سورة الأحزاب: 28] الآیۃ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میرے والدین مجھے کبھی بھی رسول اللہ ﷺ سے جدائیگی کا حکم نہیں دیں گے۔ میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں! میں تو اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ایسا نہ کہیے، میں نے تو آپ کو اختیار کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہوں ضدی نہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13267