السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: لا وقت فيما يعطى الفقراء والمساكين إلى ما يخرجون به من الفقر والمسكنة باب: فقراء اور مساکین کو دینے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یہاں تک کہ وہ فقر اور مسکینی سے نکل جائیں
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ هَارُونَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلَالِيِّ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقَالَ: " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: " يَا قَبِيصَةُ إنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَهَا بِهَا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالُوا: أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ أَوْ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ ⦗٣٧⦘ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ كَمَا مَضَى.سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مقروض ہوگیا، اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قبیصہ! اٹھ کھڑا ہو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے گا تو ہم تجھے بتلائیں گے“، پھر آپ ﷺ نے کہا: ”اے قبیصہ! مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: وہ آدمی جس کو چٹی پڑگئی تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ وہ قرض ادا ہوگیا، پھر وہ رک جائے؛ وہ آدمی جسے اچانک آفت پہنچی اور اس کا مال برباد ہوگیا اس نے مانگا، یہاں تک کہ اس کا معاملہ سیدھا ہوگیا، پھر وہ رک گیا؛ تیسرا سخت ضرورت مند آدمی جس کے متعلق اس کی قوم کے تین آدمی گواہی دیں تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ گزر بسر آسان ہوگئی، پھر وہ رک گیا، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، (جو ایسا کرتا ہے) وہ حرام کھاتا ہے۔“