السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: نقل الصدقة إذا لم يكن حولها من يستحقها باب: جب اردگرد کوئی مستحق نہ ہو تو صدقہ (دوسری جگہ) منتقل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13144
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَازُ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَأَوَّلُ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةُ طَيِّئٍ جِئْتَ بِهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتَ: أَمَا إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوَّلَ كَمَا أَتَيْتُكَ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر راوی نے سابقہ حدیث کا کچھ مفہوم ذکر کیا، مگر اس میں یہ الفاظ ہیں: ”اور سب سے پہلا صدقہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے چہرے روشن کر دیے وہ (قبیلہ) طے کا صدقہ تھا جسے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا اور تو نے کہا: سنو! میں گزشتہ سال نبی ﷺ کے پاس بھی اسی طرح آیا تھا جیسے آپ کے پاس اسے لے کر آیا ہوں۔“