السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: نقل الصدقة إذا لم يكن حولها من يستحقها باب: جب اردگرد کوئی مستحق نہ ہو تو صدقہ (دوسری جگہ) منتقل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فِي قِصَّةِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَاتِ قَوْمِهِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ عَظِيمَةٌ مِنْ صَدَقَاتِهِمْ، فَلَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ مِنَ النَّاسِ وَبَلَغَهُمْ أَنَّهُمْ قَدِ ارْتَجَعُوا صَدَقَاتِهِمْ، وَارْتَدَّتْ بَنُو أَسَدٍ وَهُمْ جِيرَانُهُمْ، اجْتَمَعَتْ طَيِّئٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَذَكَرَ الْقِصَّةَ قَالَ: فَلَمَّا رَأَوْا مِنْهُ الْجَدَّ كَفُّوا ⦗١٦⦘ عَنْهُ وَسَلَّمُوا لَهُ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ بِهَا، فَكَانَتْ أَوَّلَ إِبِلٍ مِنَ الصَّدَقَةِ قَدِمَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هِيَ، وَإِبِلُ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ " قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ مِنْ حَدِيثِ الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ السَّعْدِيِّ، أَنَّ بَنِي سَعْدٍ اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهَمْ، وَأَنْ يَصْنَعَ بِهِمْ مَا صَنَعَ مَالِكُ بْنُ نُوَيْرَةَ بِقَوْمِهِ، فَأَبَى وَتَمَسَّكَ بِمَا فِي يَدِهِ، وَثبَتَ عَلَى إِسْلَامِهِ، وَقَالَ: لَا تَعْجَلُوا يَا قَوْمُ، فَإِنَّهُ وَاللهِ لَيَقُومَنَّ بِهَذَا الْأَمْرِ قَائِمٌ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ فَدَفَعَهُمْ عَنْ نَفْسِهِ حَتَّى أَتَاهُ اجْتِمَاعُ النَّاسِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ بِهَا، وَقَدْ تَفَرَّقَ الْقَوْمُ عَنْهُ لَيْلًا وَمَعَهُ الرِّجَالُ يَطْرُدُونَهَا، فَمَا عَلِمُوا بِهِ حَتَّى أَتَاهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَدَّاهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَتْ هَذِهِ الْإِبِلُ الَّتِي قَدِمَ بِهَا الزِّبْرِقَانُ وَعَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ أَوَّلَ إِبِلٍ وَافَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى صَدَقَاتِ طَيِّئٍ، وَالزِّبْرِقَانَ بْنِ بَدْرٍ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سَعْدٍ، وَطُلَيْحَةَ بْنَ خُوَيْلِدٍ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي أَسَدٍ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي فَزَارَةَ، وَمَالِكَ بْنَ نُوَيْرَةَ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي يَرْبُوعٍ، وَالْفُجَاءَةَ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُمْ وَفَاةُ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُمْ أَمْوَالٌ كَثِيرَةٌ رَدُّوهَا عَلَى أَهْلِهَا إِلَّا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، وَالزِّبْرِقَانَ بْنَ بَدْرٍ، فَإِنَّهُمَا تَمَسَّكَا بِهَا وَدَفَعَا عَنْهَا النَّاسَ حَتَّى أَدَّيَاهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ".ابن اسحاق سے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قصہ مذکور ہے کہ جب سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں صدقات (وصول کرنے) پر مقرر کیا، جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تو اس وقت ان کے پاس صدقات کے بہت سے اونٹ تھے، جب لوگ مرتد ہو گئے اور وہ اپنے صدقات واپس لینے لگے اور بنو اسد بھی مرتد ہو گئے اور وہ ان (بنو طے) کے پڑوسی تھے، طے (قبیلہ) والے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، جب انہوں (بنو اسد) نے (تعداد میں) برابری دیکھی تو وہ مسلمان ہو گئے، جب مسلمان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تو وہ انہیں لے کر نکلے، سب سے پہلے صدقہ کے جو اونٹ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہ زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ کے اونٹ تھے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بنو سعد زبرقان رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور ان سے ان کے اموال واپس لوٹانے کا کہا اور وہ سلوک کرنے کا حکم دیا جو مالک بن نویرہ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، انہوں (عدی بن حاتم) نے انکار کیا اور جو ان کے ہاتھ میں لگا اس پر اور اسلام پر ثابت قدم رہے اور کہا: اے میری قوم! جلدی نہ کرو، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کے بعد (ان کا) قائم مقام اس کا فیصلہ کرے گا، لمبا واقعہ ذکر کیا اور کہا: انہوں نے انہیں اپنے آپ سے دور کر دیا یہاں تک کہ وہ (لوگ) لوگوں کے اجتماع میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے انہیں ان (مرتدین) کے خلاف (جہاد کے لیے) ابھارا تو ان لوگوں سے کچھ افراد رات کے وقت الگ ہو گئے اور انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم کا علم ہو گیا، یہاں تک کہ وہ ان (اپنی قوم) کے پاس آئے اور اپنے اموال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ادا کر دیے، یہ وہ اونٹ تھے جنہیں زبرقان اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلے یہ اونٹ ملے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو طے کے صدقات پر، زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہ کو بنو سعد کے صدقات پر، طلیحہ بن خویلد کو بنو اسد کے صدقات پر، عیینہ بن حصن کو بنو فزارہ کے صدقات پر، مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کے صدقات پر اور فجاءۃ کو بنو سلیم کے صدقات پر مقرر فرمایا۔ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو ان کے پاس بہت اموال تھے، وہ انہوں نے اپنے اہل و عیال کو دے دیے، سوائے سیدنا عدی بن حاتم اور زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہما کے۔ وہ ان اموال کے پاس رہے اور لوگوں کو ان (اموال) سے دور رکھا اور وہ (اموال) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا دیے۔