السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: نقل الصدقة إذا لم يكن حولها من يستحقها باب: جب اردگرد کوئی مستحق نہ ہو تو صدقہ (دوسری جگہ) منتقل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بْنِ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي، فَجَعَلَ يَفْرِضُ رِجَالًا مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ، قَالَ: " نَعَمْ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، قَدْ آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَأَوْفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّءٍ، جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ قَالَ: " إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَاقَةُ وَهُمْ فَاقَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ.سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ میری قوم کے لوگوں میں موجود تھے، انہوں نے (قبیلہ) طے کے دو ہزار آدمیوں کی ذمہ داری لگائی اور مجھ سے اعراض کیا تو میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟ عدی کہتے ہیں کہ وہ مسکرا دیے اور بات سمجھ گئے، انہوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تجھے جانتا ہوں، جب کفار نے آپ ﷺ کا انکار کیا تو تو ایمان لایا، جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے، تو نے آپ ﷺ کا ساتھ دیا، جب انہوں نے غداری کی تو نے وفا کی، سب سے پہلا صدقہ (جس کی وجہ سے) رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے چہرے چمک اٹھے تھے وہ (قبیلہ) طے کا صدقہ تھا جسے تو لے کر آیا تھا، پھر انہوں نے مجھ سے معذرت کی اور کہا: میں نے (ایسی) قوم کے لیے فرض قرار دیا ہے جنہیں فاقے نے کمزور کر دیا ہے، وہ پورا قبیلہ فاقہ کا شکار ہے تاکہ انہیں ان کے حقوق مل جائیں۔