السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في شعار القبائل ونداء كل قبيلة بشعارها باب: قبائل کے شعار (پہچان کے لیے مخصوص علامتی الفاظ) اور ہر قبیلے کو اس کے شعار کے ساتھ پکارنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13053
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَمَنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ شِعَارُنَا: أَمِتْ أَمِتْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دور میں غزوہ میں تھا، پس ہمارا شعار «أَمِتْ أَمِتْ» ”مار دو، مار دو“ تھا۔