السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في كراهية العرافة لمن جار وارتشى وعدل عن طريق الهدى باب: اس شخص کے لیے نگرانی کے عہدے کی کراہت کے متعلق جو مروی ہے جو ظلم کرے، رشوت لے اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جائے
حدیث نمبر: 13048
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَالَ: " لَمْ يَكُنْ أَمِيرًا وَلَا جَابِيًا وَلَا عَرَّافًا ".حافظ ثناء اللہ
دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ”نہ تو امیر بن، نہ محصل اور نہ عراف۔“