السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في كراهية العرافة لمن جار وارتشى وعدل عن طريق الهدى باب: اس شخص کے لیے نگرانی کے عہدے کی کراہت کے متعلق جو مروی ہے جو ظلم کرے، رشوت لے اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جائے
حدیث نمبر: 13047
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبِهِ ثُمَّ قَالَ: " أَفْلَحْتَ يَا قَدِيمُ إِنْ مِتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا أَوْ كَاتِبًا أَوْ عَرِيفًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے کندھوں پر مارا اور فرمایا: ”اے قدیم! تو فلاح پا گیا۔ اگر تو اسی حالت میں فوت ہو کہ نہ تو امیر ہو، نہ کاتب اور نہ عریف۔“