حدیث نمبر: 13049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى مَنْهَلٍ مِنَ الْمَنَاهِلِ، فَلَمَّا بَلَغَهُمُ الْإِسْلَامُ جَعَلَ صَاحِبُ الْمَاءِ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا، فَأَسْلَمُوا وَقَسَمَ الْإِبِلَ بَيْنَهُمْ، وَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، فَأَرْسَلَ ابْنَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ⦗٥٨٧⦘ ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَإِنَّهُ جَعَلَ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا فَأَسْلَمُوا وَقَسَّمُوا الْإِبِلَ بَيْنَهُمْ، وَبَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، أَفَهُوَ أَحَقُّ بِهَا أَمْ هُمْ؟ فَإِنْ قَالَ: نَعَمْ أَوْ لَا، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَهُوَ عَرِيفُ الْمَاءِ، وَإِنَّهُ يَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِيَ الْعَرَافَةَ بَعْدَهُ. فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ"، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي جَعَلَ لِقَوْمِهِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ عَلَى أَنْ يُسْلِمُوا، فَأَسْلَمُوا وَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا مِنْهُمْ، أَفَهُوَ أَحَقُّ بِهَا أَمْ هُمْ؟ قَالَ: " إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُسْلِمَهَا لَهُمْ فَيُسْلِمُهَا، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْهُمْ، فَإِنْ أَسْلَمُوا فَلَهُمْ إِسْلَامُهُمْ، وَإِنْ لَمْ يُسْلِمُوا قُوتِلُوا عَلَى الْإِسْلَامِ"، قَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَهُوَ عَرِيفُ الْمَاءِ، وَإِنَّهُ يَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ لِيَ الْعَرَافَةَ بَعْدَهُ، فَقَالَ: " الْعَرَافَةُ حَقٌّ، وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنَ الْعُرَفَاءِ، وَلَكِنَّ الْعُرَفَاءَ فِي النَّارِ".
حافظ ثناء اللہ

غالب قطان نے ایک آدمی سے سنا، اس نے اپنے والد سے سنا، اس نے اپنے دادا سے سنا کہ کچھ لوگ عرب کے ایک چشمے پر رہتے تھے۔ جب دین اسلام کی خبر پہنچی تو چشمے والے نے اپنی قوم کو ایک سو اونٹ دیے اس شرط پر کہ وہ مسلمان ہو جائیں، تو وہ مسلمان ہو گئے، اس نے اونٹوں کو ان میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اونٹوں کو پھیرنا چاہا تو اپنے بیٹے کو بلا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، اس نے کہا: آپ ﷺ کے پاس جا کر کہنا، میرے باپ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اس نے اپنی قوم کو سو اونٹ دینے کا وعدہ کیا تھا اس شرط پر کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ وہ مسلمان ہو گئے اور میرے باپ نے اونٹ ان میں تقسیم کر دیے۔ اب وہ ان سے اپنے اونٹ پھیرنا چاہتا ہے تو کیا وہ پھیر سکتا ہے یا نہیں؟ آپ ہاں یا ناں جو بھی کہیں۔ پھر فرمایا: میرا باپ ضعیف ہے اور وہ اس چشمے کا عریف ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد آپ مجھ کو وہاں کا عریف بنا دیں۔ خیر بیٹا یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے آپ کو سلام کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ» ”اور تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلامتی ہو۔“ پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے باپ نے میری قوم کو سو اونٹ دینے کا وعدہ کیا تھا، اس شرط پر کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور وہ مسلمان ہو گئے، اچھی طرح اب میرا باپ ان سے ان اونٹوں کو پھیرنا چاہتا ہے، کیا میرا باپ ان کا حق دار ہے یا وہی لوگ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیرا باپ چاہے تو ان کو دے دے اور اگر پھیرنا چاہے تو وہ ان کا حق دار ہے اور وہ جو مسلمان ہوئے وہ اپنے اسلام کا فائدہ اٹھائیں گے۔ اگر مسلمان نہ ہوں گے تو اسلام پر قتل کیے جائیں گے۔“ پھر اس نے کہا: میرا باپ بوڑھا ہے اور اس چشمے کا عریف ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے بعد عرافت کا عہدہ مجھے دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”عرافت تو ضرور ہے اور لوگوں کے لیے ضروری بھی ہے مگر عریف جہنم میں جائیں گے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13049
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»