السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب، ومن اختار أن يكون وقفا للمسلمين كما فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه بأرض العراق وغيرها، إما بأن كانت فيئا فتركها وقفا، وإما بأن كانت غنيمة فاستطاب أنفس من كان ظهر عليها كما استطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أنفس أهل باب: وہ مال جس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے (بغیر لڑائی کے ملا ہو)، اور جس نے اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرنے کو ترجیح دی جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو وہ مالِ فے تھا تو اسے وقف چھوڑ دیا، یا وہ مالِ غنیمت تھا تو انہوں نے ان لوگوں کی خوشنودی حاصل کی جنہیں اس پر غلبہ حاصل ہوا تھا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کی خوشنودی حاصل کی تھی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيَّانِ أَنَّ لَيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمَا قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: زَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَنِسَائَهَمْ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلِيَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ: إِمَّا السَّبْيَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ "، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنَّ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَفِيءُ اللهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ "، فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ " فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِأَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عروہ رحمہ اللہ کو گمان ہے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب ہوازن کا وفد آیا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے اموال اور ان کی عورتیں انہیں لوٹا دی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میرے ساتھ کتنے اور لوگ ہیں اور سچی بات مجھے زیادہ محبوب ہے، اس لیے تم ایک چیز پسند کر لو: مال یا قیدی۔ میں نے تمہاری وجہ سے تاخیر کی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے طائف سے واپس ہو کر دس دن ان کا انتظار کیا تھا، جب ان پر واضح ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کو ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ!» ”تمہارے بھائی توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے ہے کہ ان کے قیدی واپس کر دیے جائیں۔ اس لیے جو شخص اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے، یہ بہتر ہے اور جو اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہیں، ان کا حق قائم رہے گا، وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے اللہ ہمیں غنیمت عطا فرمائے گا، اس میں سے ہم ان کو اس کا بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔“ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم خوشی سے واپس کرنا چاہتے ہیں“، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح ہمیں علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں۔ اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے بڑے لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں“، چنانچہ سب واپس آ گئے، ان کے بڑوں نے ان سے گفتگو کی۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”سب نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔“ یہی وہ حدیث ہے جو قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں پہنچی ہے۔