حدیث نمبر: 13043
بَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ وَغَيْرِهَا، إِمَّا بِأَنْ كَانَتْ فَيْئًا فَتَرَكَهَا وَقْفًا، وَإِمَّا بِأَنْ كَانَتْ غَنِيمَةً فَاسْتَطَابَ أَنْفُسَ مَنْ كَانَ ظَهَرَ عَلَيْهَا كَمَا اسْتَطَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفُسَ أَهْلِ سَبْيِ هَوْازِنَ حَتَّى تَرَكُوا حُقُوقَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

... جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق وغیرہ کی زمین کے ساتھ کیا، یا تو اس طرح کہ وہ مالِ فے تھی تو انہوں نے اسے وقف کے طور پر (مسلمانوں کے لیے) چھوڑ دیا، اور یا اس طرح کہ وہ مالِ غنیمت تھی تو انہوں نے ان لوگوں کی رضامندی حاصل کر لی جنہوں نے اس پر غلبہ پایا تھا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں (کو پانے والوں) کی رضامندی حاصل کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حقوق چھوڑ دیے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْطَى بَجِيلَةَ رُبْعَ السَّوَادِ، فَأَخَذُوهُ سِنِينَ، ثُمَّ وَفَدَ جَرِيرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْؤُولٌ لَكُنْتُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، فَأَرَى أَنْ تَرُدَّهُ "، فَرَدَّهُ وَأَجَازَهُ بِثَمَانِينَ دِينَارًا.
حافظ ثناء اللہ

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلہ کو لشکر کا چوتھائی دیا، چند سال انہوں نے رکھا، پھر جریر رضی اللہ عنہ وفد بن کر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ پس کہا: اگر میں تقسیم کرنے والا نہ ہوتا تو سوال کیا جاتا البتہ تم ہو اس پر جو تمہارے لیے تقسیم کیا گیا ہے، پس میرے خیال میں آپ اسے لوٹا دیں، پس آپ نے اسے لوٹا دیا اور اسے اسی دینار کی اجازت دے دی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13043
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»