السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: ما جاء في تعريف العرفاء باب: عرفاء (لوگوں کے نگرانوں) کے مقرر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13045
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِلنَّاسِ فِي عِتْقَ سَبْيِ هَوْازِنَ قَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ " فَرَجَعَ النَّاسُ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے ہوازن کے قیدیوں سے متعلق اجازت چاہی تو کہا: ”میں نہیں جانتا تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ پس جاؤ اور ہماری طرف تمہارے بڑے لوگ معاملہ لے کر آئیں“، پس لوگ لوٹ گئے، انہوں نے اپنے بڑوں سے بات کی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کہ انہوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے۔