حدیث نمبر: 13042
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ " قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا، وَعَادَ الْعَطَاءُ رِشَاءً، فَدَعُوهُ " فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

سلیم بن حطیر وادیِ قریٰ میں رہنے والے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے سنا جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے لوگوں کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا“، لوگوں نے کہا: ہاں پہنچا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب قریش کے لوگ آپس میں حکومت کی خاطر لڑیں اور عطا رشوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو۔“ لوگوں نے کہا: یہ کون شخص ہے؟ معلوم ہوا، وہ ذوالذوائد رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الفيء والغنيمة / حدیث: 13042
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»