السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: من كره الإفراض عند تغير السلاطين، وصرفه عن المستحقين باب: اس شخص کا بیان جس نے حکمرانوں کے بدلنے پر وظائف مقرر کرنے اور انہیں مستحقین کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کو ناپسند کیا
حدیث نمبر: 13041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي مُطَيْرٌ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالسُّوَيْدَاءِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ قَدْ جَاءَ كَأَنَّهُ يَطْلُبُ دَوَاءً أَوْ حُضَضًا، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَعِظُ النَّاسَ وَيَأْمُرُهُمْ وَيَنْهَاهُمْ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا الْعَطَاءَ مَا كَانَ عَطَاءً، فَإِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ، وَكَانَ عَنْ دِينِ أَحَدِكُمْ، فَدَعُوهُ".حافظ ثناء اللہ
ابو مطیر حج کرنے کے لیے گئے، جب وہ سویداء مقام پر تھے تو ایک شخص دوائی تلاش کرتا ہوا آیا یا رسوت تلاش کرتا ہوا اور کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ حجۃ الوداع میں فرماتے تھے اور لوگوں کو وصیت کرتے تھے اور نیکی کا حکم کرتے تھے اور برائی سے منع کرتے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! امام یا حاکم کی عطاء کو لے لیا کرو، جب تک وہ عطاء کرتا رہے، پھر جب قریش ایک دوسرے سے لڑیں بادشاہی پر اور عطاء قرض کے بدلے میں ہو تو اسے چھوڑ دینا۔“