السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الفيء والغنيمة— مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا أُصِيبَ مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ: أَنَا أُدْخِلُهُ بَيْتَ الْمَالِ، قَالَ: " لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، لَا يُؤْوَى تَحْتَ سَقْفِ بَيْتٍ حَتَّى أَقْسِمَهُ "، فَأَمَرَ بِهِ فَوُضِعَ فِي الْمَسْجِدِ، وَوُضِعَتْ عَلَيْهَا الْأَنْطَاعُ، وَحَرَسَهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا مَعَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، أَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، أَوْ أَحَدُهُمَا أَخَذَ يَدَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ كَشَطُوا الْأَنْطَاعَ عَنِ الْأَمْوَالِ، فَرَأَى مَنْظَرًا لَمْ يَرَ مِثْلَهُ، رَأَى الذَّهَبَ فِيهِ وَالْيَاقُوتَ وَالزَّبَرْجَدَ وَاللُّؤْلُؤَ يَتَلَأْلَأُ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمَا: إِنَّهُ وَاللهِ مَا هُوَ بِيَوْمِ بُكَاءٍ، وَلَكِنَّهُ يَوْمُ شُكْرٍ وَسُرُورٍ، فَقَالَ: " إِنِّي وَاللهِ مَا ذَهَبْتُ حَيْثُ ذَهَبْتُ، وَلَكِنَّهُ وَاللهِ مَا كَثُرَ هَذَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا وَقَعَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ: " اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَكُونَ مُسْتَدْرَجًا؛ فَإِنِّي أَسْمَعُكَ تَقُولُ {سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ} [الأعراف: ١٨٢] "، ثُمَّ قَالَ: " أَيْنَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ؟ " فَأُتِيَ بِهِ أَشْعَرَ الذِّرَاعَيْنِ دَقِيقَهُمَا، فَأَعْطَاهُ سِوَارَيْ كِسْرَى فَقَالَ: " الْبَسْهُمَا "، فَفَعَلَ، فَقَالَ: " قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ "، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، قَالَ: " قُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَهُمَا مِنْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَأَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ "، وَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَعْضَ ذَلِكَ بَعْضًا، فَقَالَ: " إِنَّ الَّذِي أَدَّى هَذَا لَأَمِينٌ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَنَا أُخْبِرُكَ، أَنْتَ أَمِينُ اللهِ، وَهُمْ يُؤَدُّونَ إِلَيْكَ مَا أَدَّيْتَ إِلَى اللهِ، فَإِذَا رَتَعْتَ رَتَعُوا، قَالَ: " صَدَقْتَ "، ثُمَّ فَرَّقَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا أَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسُرَاقَةَ وَنَظَرَ إِلَى ذِرَاعَيْهِ: " كَأَنِّي بِكَ قَدْ لَبِسْتَ سُوَارَيْ كِسْرَى " قَالَ: وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ إِلَّا سِوَارَيْنِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: أَنْفَقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٥٨٢⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَهْلِ الرَّمَادَةِ حَتَّى وَقَعَ مَطَرٌ، فَتَرَحَّلُوا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَاكِبًا فَرَسًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَرَحَّلُونَ بِظَعَائِنِهِمْ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ خَصْفَةَ: أَشْهَدُ أَنَّهَا انْحَسَرَتْ عَنْكَ، وَلَسْتَ بِابْنِ أَمَةٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ ذَلِكَ لَوْ كُنْتُ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِي أَوْ مِنْ مَالِ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے مال لایا گیا تو بیت المال کے نگران نے کہا: میں اسے بیت المال میں داخل کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رب کعبہ کی قسم! اسے بیت المال کی چھت کے نیچے پناہ نہ دی جائے گی حتیٰ کہ میں اسے تقسیم کر دوں۔ حکم دیا کہ وہ مال مسجد میں لایا جائے اور چمڑے مسجد میں رکھے گئے، مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے ان پر پہرہ دیا۔ جب صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے آئے۔ انھوں نے مال سے چمڑوں کو ہٹایا، پس بے مثال منظر دیکھا، اس میں سونا، یاقوت، جواہرات اور موتی دیکھے اور رونے لگ گئے۔ ایک نے کہا: آج رونے کی کیا وجہ ہے؟ آج تو شکر اور خوشی کا دن ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو میں نے سوچا ہے تو نے وہ نہیں سوچا۔ اللہ کی قسم! یہ کسی قوم میں اسی وقت زیادہ ہوتا ہے جب ان میں لڑائی ہوتی ہے۔ پھر قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں تجھے سنتا ہوں تو کہتا ہے: ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الأعراف: 182] ”ہم ان کو ایسے پکڑیں گے کہ ان کو علم بھی نہ ہوگا“، پھر کہا: سراقہ بن جعشم کہاں ہیں؟ ان کو لایا گیا، ان کو دو کنگن دیے گئے۔ کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو۔ پھر کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ کہو، جس نے ان کو کسریٰ بن ہرمز سے لیا اور سراقہ بن جعشم کو پہنایا، وہ بنی مدلج کے دیہاتی تھے۔ وہ ان کو پھیرنے لگے۔ پس کہا: جس نے یہ دیے ہیں وہ امین ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: میں تجھے خبر دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین ہو اور وہ آپ کو دیتے ہیں، جو تم اللہ کی طرف دیتے ہو۔ جب تو خوش حال ہوگا تو وہ بھی خوش حال ہوں گے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ نے سراقہ کو پہنائے، اس لیے کہ نبی ﷺ نے سراقہ سے کہا تھا اور اس کی کلائیوں کی طرف دیکھا: ”گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے کسریٰ کے کنگن پہنے ہیں“ اور ان کے لیے صرف وہی دو کنگن تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے خبر دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط والوں پر خرچ کیا، حتیٰ کہ بارش ہوئی تو وہ واپس گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف گئے، ان کی طرف دیکھا کہ وہ کوچ کر رہے ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بنی محارب کے ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، تجھے افسوس ہو رہا ہے اور تو لونڈی کا بیٹا تو نہیں ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں نے اپنے مال سے یا خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، تو میں نے تو ان پر اللہ کے مال سے خرچ کیا ہے۔